Capítulo 1Capítulo 1

Este capítulo aún no está disponible en Spanish. Inicia sesión para traducirlo y que todos puedan disfrutarlo.

پہلا باب

کچھ لوگ ہماری زندگی میں محبت بن کر نہیں آتے۔ وہ پہلے ہماری پسندیدہ شخصیت بنتے ہیں، ہمارے لیے ایک مثال، ایک ایسا مقام جہاں ہم دنیا کی الجھنوں سے دور سکون محسوس کرتے ہیں۔ پھر وقت گزرتا ہے، ہم بڑے ہو جاتے ہیں، اور ایک دن ہمیں احساس ہوتا ہے کہ دل نے کب اس احترام کو محبت کا نام دے دیا، ہمیں خود بھی خبر نہیں ہوئی۔

لاہور کی اس پرانی حویلی میں شام ہمیشہ ذرا دیر سے اترتی تھی۔

اونچے درختوں کے درمیان سے چھن کر آتی سورج کی آخری کرنیں جب سفید دیواروں پر پڑتیں تو پورا صحن سنہری روشنی میں نہا جاتا۔ برآمدے میں رکھے لکڑی کے جھولے کی زنجیریں ہوا کے ساتھ ہلکی ہلکی آواز پیدا کرتیں اور باورچی خانے سے آتی الائچی والی چائے کی خوشبو گھر کے ماحول میں سکون بھر دیتی۔

یہ حویلی صرف اینٹوں اور پتھروں سے بنی ایک پرانی عمارت نہیں تھی، بلکہ کئی نسلوں کی یادوں کی امانت تھی۔ اس گھر کے بزرگ حاجی سلیمان شاہ تھے، جن کی زندگی کا بیشتر حصہ اسی حویلی کی دیواروں کے درمیان گزرا تھا۔ ان کے لیے خاندان کی عزت اور روایات ہمیشہ سب سے مقدم رہی تھیں۔

حاجی سلیمان شاہ کے بیٹے سکندر شاہ کی شخصیت اپنے والد سے کچھ مختلف تھی۔ جہاں حاجی صاحب کی باتوں میں عمر بھر کے تجربے کی نرمی اور ٹھہراؤ تھا، وہیں سکندر کے لہجے میں اصولوں کی سختی اور فیصلوں کی قطعیت نمایاں تھی۔ وہ بائیس سال کا کم گو لڑکا تھا، اپنے کام سے کام رکھنے والا، اور اپنی زندگی کے معاملات میں کسی قسم کی بے احتیاطی برداشت نہیں کرتا تھا۔

سائرہ، ماہ نور کی والدہ ایک بیوہ تھی جو، حاجی سلیمان شاہ سے شادی کے بعد اس خاندان کا حصہ بنی تھیں۔ وہ نرم مزاج، سمجھ دار اور رشتوں کو محبت سے سنبھالنے والی خاتون تھیں۔ ان کی کوشش ہوتی کہ گھر کے ہر فرد کے درمیان اپنائیت قائم رہے، خواہ کسی کی طبیعت کتنی ہی مختلف کیوں نہ ہو۔

یوں ماہ نور اور سکندر شاہ کا تعلق بھی اسی خاندانی رشتے کے ذریعے جڑا ہوا تھا۔ سکندر کے لیے ماہ نور گھر کی ایک چھوٹی سی بچی تھی، جس کی شرارتوں پر وہ اکثر ناراض ہونے کا تاثر دیتا، مگر اس کی تعلیم اور تربیت کے معاملے میں کبھی غفلت نہیں برتتا تھا۔

بارہ سالہ ماہ نور صحن کے ایک کونے میں بیٹھی اپنی ریاضی کی کتاب کھولے ہوئے تھی۔

کتاب اس کی گود میں تھی، پنسل ہاتھ میں، مگر نگاہیں بار بار سامنے والے برآمدے کی طرف اٹھ جاتی تھیں۔

وہاں سکندر شاہ کھڑا تھا۔

سیاہ شلوار قمیص، کلائی پر بندھی گھڑی، ماتھے پر سنجیدگی کی مستقل لکیر اور چہرے پر ایسا اطمینان جیسے دنیا کے تمام مسائل اس کے سامنے آ کر خود ہی خاموش ہو جاتے ہوں۔

وہ اس وقت اپنے پرسنل سیکرٹری عدیل سے کسی کاروباری معاملے پر بات کر رہا تھا۔

’’میں نے تمہیں پہلے بھی سمجھایا ہے، عدیل۔ کسی پر اعتماد کرنے اور آنکھیں بند کرکے اس کی بات مان لینے میں فرق ہوتا ہے۔‘‘

اس کی آواز بلند نہیں تھی، لیکن اس کے لہجے میں ایسی قطعیت تھی کہ عدیل نے فوراً اپنی وضاحت روک دی۔

’’لیکن سر، مجھے لگا کہ وہ شخص قابلِ اعتماد ہے۔‘‘

’’لگنے اور ہونے میں فرق ہوتا ہے۔ آئندہ کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے پوری معلومات حاصل کرنا۔ نقصان تمہارا ہو تو برداشت بھی تمہیں کرنا پڑے گا۔‘‘

عدیل نے سر جھکا کر اثبات میں سر ہلا دیا۔

ماہ نور نے بے اختیار اپنی کتاب بند کر دی۔

اسے سکندر کی یہی باتیں اچھی لگتی تھیں۔ وہ کبھی بے وجہ کسی کی تعریف نہیں کرتا تھا، کسی کو خوش کرنے کے لیے جھوٹ نہیں بولتا تھا، اور اگر کوئی غلطی کرتا تو اسے سمجھانے سے پیچھے نہیں ہٹتا تھا۔

اس کی عمر صرف بارہ برس تھی۔ اسے زندگی کی پیچیدگیوں کا اندازہ نہیں تھا، مگر اتنا ضرور معلوم تھا کہ سکندر شاہ جیسا بننا آسان نہیں تھا۔

’’ماہ نور!‘‘

اس کی والدہ کی آواز پر وہ چونکی۔

’’جی، امی؟‘‘

’’کتاب کھول کر کس کے خیالات میں گم ہو؟ دو گھنٹے سے ایک ہی صفحے پر بیٹھی ہو۔‘‘

ماہ نور نے فوراً کتاب کھول لی۔

’’میں پڑھ رہی ہوں۔‘‘

سائرہ نے اس کی کتاب پر نظر ڈالی، پھر اس کے چہرے کو دیکھا۔

’’اچھا؟ تو بتاؤ، کیا پڑھ رہی ہو؟‘‘

ماہ نور کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے پریشانی ابھری۔

’’وہ... ریاضی کا سبق۔‘‘

سائرہ نے کتاب کی طرف دیکھا اور مسکرا دیں۔

’’ریاضی کا سبق یا برآمدے میں کھڑے سکندر صاحب کی نگرانی؟‘‘

’’امی!‘‘ ماہ نور نے فوراً احتجاج کیا، ’’میں واقعی پڑھ رہی تھی!‘‘

’’اچھا، تو پھر یہ سوال حل کرکے دکھاؤ۔‘‘

ماہ نور نے کتاب کی طرف دیکھا۔ سوال اب بھی وہیں موجود تھا، اور اس کا جواب ابھی تک اس کے لیے ایک معمہ بنا ہوا تھا۔

’’امی، یہ سوال ہی بہت مشکل ہے۔‘‘

’’تو اسے سمجھنے کی کوشش کرو، بیٹا۔ ہر مشکل چیز سے جان چھڑانا بھی تو ٹھیک نہیں۔‘‘

ماہ نور نے منہ بنا لیا۔

’’آپ ہمیشہ میرے پیچھے کیوں پڑی رہتی ہیں؟‘‘

سائرہ ہنس پڑیں۔

’’کیونکہ تم میری بیٹی ہو۔ اب کتاب مکمل کرو، ورنہ میں سکندر سے کہوں گی کہ تمہیں سمجھائیں۔‘‘

ماہ نور نے فوراً سیدھا ہو کر بیٹھتے ہوئے کتاب کھول لی۔

’’نہیں! انہیں مت کہیے گا۔‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’وہ بہت سخت ہیں۔‘‘

سائرہ نے مسکراتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔

’’سخت ہیں، مگر برے نہیں ہیں۔ اور تمہیں بھی تو ان سے بہت کچھ سیکھنے کا شوق ہے۔‘‘

ماہ نور نے نظریں چرا لیں۔

’’مجھے صرف یہ اچھا لگتا ہے کہ انہیں ہر بات سمجھ آ جاتی ہے۔‘‘

سائرہ کے لبوں پر ایک مانوس سی مسکراہٹ آ گئی۔

’’تو پھر آج اپنی مشکل بھی انہی سے سمجھ لینا۔ لیکن پہلے خود کوشش ضرور کرنا۔‘‘

ماہ نور نے کوئی جواب نہیں دیا، بس پنسل اٹھا کر سوال پر جھک گئی۔

کچھ دیر تک وہ اعداد کے درمیان الجھی رہی۔ کبھی ایک عدد کو دوسرے سے ضرب دیتی، کبھی جواب کاٹ دیتی، اور کبھی بے بسی سے کتاب بند کرنے لگتی۔

اسی دوران سکندر کی نظر اس کی طرف اٹھ گئی۔

’’کیا مسئلہ ہے؟‘‘ اس نے برآمدے سے ہی پوچھا۔

ماہ نور نے چونک کر سر اٹھایا۔

’’کچھ نہیں۔‘‘

’’تمہاری کتاب میں اگر کچھ نہیں ہے تو پھر تم اتنی پریشان کیوں ہو؟‘‘

ماہ نور نے چند لمحے ہچکچانے کے بعد کتاب اٹھائی اور اس کے قریب آ گئی۔

’’وہ... یہ سوال سمجھ نہیں آ رہا۔‘‘

سکندر نے اپنی گھڑی پر نظر ڈالی۔ اس کے پاس دفتر کے کچھ ضروری کام باقی تھے، لیکن ماہ نور کے ہاتھ میں کھلی کتاب دیکھ کر اس نے قریب رکھی کرسی کی طرف اشارہ کر دیا۔

’’بیٹھو۔ دکھاؤ، کون سا سوال ہے؟‘‘

ماہ نور فوراً اس کے سامنے بیٹھ گئی اور کتاب اس کی طرف بڑھا دی۔

سکندر نے سوال دیکھا، پھر اس کے ہاتھ سے پنسل لیتے ہوئے کاغذ پر دو چھوٹے سے خانے بنائے۔

’’اچھا، پہلے مجھے یہ بتاؤ کہ سوال میں تمہیں دیا کیا گیا ہے؟‘‘

ماہ نور نے سوال دوبارہ پڑھا اور آہستہ آہستہ جواب دینے لگی۔

سکندر نے اس کی بات مکمل ہونے دی، پھر کاغذ پر چند اعداد لکھے۔

’’دیکھو، ماہ نور، ہر سوال کو ایک ہی دفعہ حل کرنے کی کوشش کرو گی تو وہ مشکل لگے گا۔ اسے چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کرو۔ پہلے یہ سمجھو کہ تمہارے پاس معلومات کیا ہیں، پھر یہ کہ تمہیں معلوم کیا کرنا ہے۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان راستہ تلاش کرو۔‘‘

ماہ نور اس کی انگلی کے ساتھ ساتھ کاغذ پر لکھی ہوئی سطروں کو دیکھتی رہی۔

سکندر نے سوال کا پہلا مرحلہ حل کیا اور پنسل اس کی طرف بڑھا دی۔

’’اب آگے تم کرو۔‘‘

ماہ نور نے احتیاط سے اگلا مرحلہ حل کیا۔ جواب ابھی مکمل نہیں ہوا تھا، مگر اب اس کے چہرے پر پہلے جیسی الجھن نہیں تھی۔

’’پھر یہ والا عدد یہاں آئے گا؟‘‘ اس نے پوچھا۔

’’بالکل۔ لیکن صرف اس لیے نہیں کہ میں نے کہا ہے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ یہاں کیوں آیا ہے۔‘‘

ماہ نور نے دوبارہ حساب دیکھا، پھر اپنی غلطی درست کر لی۔

چند لمحوں بعد اس کی آنکھوں میں سمجھ آنے کی چمک ابھری۔

’’اوہ! تو یہ اتنا مشکل بھی نہیں تھا؟‘‘

سکندر نے پنسل واپس اس کی طرف بڑھا دی۔

’’اکثر مسئلہ سوال کی مشکل نہیں ہوتا، بلکہ اسے سمجھنے کا طریقہ ہوتا ہے۔ اور کبھی کبھی ہم جواب تک پہنچنے کی جلدی میں سوال کو سمجھنا ہی بھول جاتے ہیں۔‘‘

ماہ نور نے سر ہلایا، جیسے یہ بات اس کے ذہن میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لینا چاہتی ہو۔

’’اب اگلا سوال خود حل کرو۔‘‘

وہ فوراً کتاب میں جھک گئی۔ اس بار اس نے جلدی نہیں کی۔ پہلے سوال پڑھا، پھر دی گئی معلومات الگ کیں اور آخر میں حساب شروع کیا۔

چند منٹ بعد اس نے خوشی سے کتاب سکندر کے سامنے کر دی۔

’’دیکھیں! یہ میں نے خود کیا ہے۔‘‘

سکندر نے جواب دیکھا اور مختصر سا سر ہلایا۔

’’درست ہے۔ اب اسی طرح باقی سوال بھی حل کرو۔‘‘

’’بس؟‘‘ ماہ نور نے حیرت سے پوچھا۔

’’کیا مطلب؟‘‘

’’آپ یہ نہیں کہیں گے کہ میں نے اچھا کیا؟‘‘

سکندر نے اسے دیکھا۔ اس کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔

’’تم نے اچھا کیا ہے، لیکن اب ہر سوال کے بعد تعریف کا انتظار مت کرنا۔ اپنے کام کی قدر کرنا سیکھو۔‘‘

ماہ نور نے کچھ سوچتے ہوئے سر ہلایا۔

’’اچھا، لیکن اگر میں سارے سوال ٹھیک کر لوں تو پھر آپ تعریف کریں گے؟‘‘

سکندر بے اختیار مسکرا دیا۔

’’پہلے سارے سوال ٹھیک تو کر لو، چھوٹی سی وکیل۔‘‘

ماہ نور کا چہرہ کھل اٹھا۔

وہ دوبارہ کتاب میں جھک گئی، اور سکندر اپنے کام کی طرف لوٹ گیا۔

سائرہ دور کھڑی یہ منظر دیکھ رہی تھیں۔ انہیں معلوم تھا کہ سکندر کی طبیعت میں بے جا لاڈ یا ضرورت سے زیادہ نرمی نہیں تھی، لیکن وہ جس کی ذمہ داری قبول کر لیتا، اس کے معاملے میں لاپرواہی بھی نہیں کرتا تھا۔

ماہ نور کے لیے یہ چند منٹ کسی بڑے سبق سے کم نہیں تھے۔ اس نے صرف ریاضی کا ایک سوال حل کرنا نہیں سیکھا تھا، بلکہ یہ بھی جانا تھا کہ کسی بات کو سمجھنے کے لیے صبر اور کوشش دونوں ضروری ہیں۔

اسے کیا خبر تھی کہ وقت گزرنے کے ساتھ انسان کی پسند ہمیشہ بدلتی نہیں، کبھی کبھی صرف اس کی گہرائی بدل جاتی ہے۔

اس شام حویلی میں ایک چھوٹا سا مسئلہ پیدا ہو گیا۔کچھ ضروری کاغذات شہر سے منگوائے گئے تھے، لیکن ڈرائیور غلط فائل لے آیا۔ حاجی سلیمان شاہ غصے میں تھے، عدیل پریشان تھا، اور ملازمین ایک دوسرے کو وضاحتیں دے رہے تھے۔

ماہ نور برآمدے کے دروازے کے قریب کھڑی سب دیکھ رہی تھی۔

’’اب کیا ہوگا؟‘‘ اس نے آہستہ سے اپنی والدہ سے پوچھا۔

’’اللہ بہتر کرے گا، بیٹا۔‘‘

اسی وقت سکندر نے میز پر پڑی فائل اٹھائی۔

’’سب لوگ ایک ساتھ چپ ہو گے۔‘‘

صحن میں خاموشی چھا گئی۔

اس نے کاغذات پر نظر دوڑائی، پھر ڈرائیور سے چند سوال کیے۔ معلوم ہوا کہ اصل فائل دفتر میں رہ گئی تھی اور دوسری فائل غلطی سے گاڑی میں رکھ دی گئی تھی۔

’’غلطی ہوئی ہے تو اسے درست بھی کیا جا سکتا ہے۔ شور مچانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔‘‘

اس نے فوراً دفتر فون کیا، ضروری کاغذات کی نقل منگوائی اور باقی معاملات کی ذمہ داری خود سنبھال لی۔

چند ہی منٹوں میں گھر کا ماحول معمول پر آنے لگا۔

حاجی سلیمان شاہ نے اطمینان کا سانس لیا اور سکندر کی طرف دیکھ کر کہا، ’’تمہاری یہی عادت مجھے اچھی لگتی ہے، سکندر۔ مشکل وقت میں گھبرانے کے بجائے مسئلے کا حل تلاش کرتے ہو۔‘‘

سکندر نے احترام سے سر جھکا دیا۔

’’بابا جان، پریشان ہونے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ بہتر یہی ہے کہ جو کام ہمارے اختیار میں ہے، اسے درست طریقے سے کیا جائے۔‘‘

حاجی صاحب نے اثبات میں سر ہلایا۔

ماہ نور یہ سب حیرت سے دیکھ رہی تھی۔

اس کے لیے سکندر شاہ صرف گھر کے ایک بڑے فرد کا نام نہیں تھا۔ وہ اسے ایسا شخص لگتا تھا جس کے پاس ہر مشکل کا کوئی نہ کوئی حل ضرور ہوتا ہے۔ صبح ریاضی کا سوال ہو یا شام کو حویلی کا کوئی مسئلہ، سکندر ہر بات کو تحمل سے سمجھنے اور سلجھانے کی کوشش کرتا تھا۔

جب سب لوگ اپنے کاموں میں مصروف ہو گئے تو سکندر کی نظر برآمدے کے قریب کھڑی ماہ نور پر پڑی۔

’’تم یہاں کیا کر رہی ہو؟‘‘

وہ سیدھی ہو گئی۔

’’کچھ نہیں۔‘‘

’’کچھ نہیں تو اتنی دیر سے یہاں کیوں کھڑی ہو؟‘‘

’’میں بس... دیکھ رہی تھی۔‘‘

’’کیا؟‘‘

ماہ نور نے چند لمحے سوچا، پھر معصومیت سے بولی:

’’آپ کو۔‘‘

سکندر کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔

’’مجھے کیوں؟‘‘

’’کیونکہ آپ سب کچھ ٹھیک کر دیتے ہیں۔‘‘

اس کے لہجے میں اتنی سچی تعریف تھی کہ سکندر چند لمحے خاموش رہا۔

پھر اس نے سر ہلایا۔

’’یہ کوئی کمال نہیں ہے، ماہ نور۔ مسئلہ ہو تو گھبرانے کے بجائے اسے سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔‘‘

ماہ نور کو صبح کی بات یاد آ گئی۔

’’جیسے ریاضی کے سوال کو؟‘‘

سکندر نے اسے دیکھا۔

’’بالکل۔ ریاضی ہو یا زندگی، جب تک تم مسئلے کو سمجھو گی نہیں، اسے حل کیسے کرو گی؟‘‘

ماہ نور کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی۔

’’اور اگر سمجھ نہ آئے تو؟‘‘

’’تو کسی ایسے شخص سے پوچھو جو سمجھتا ہو۔‘‘

ماہ نور نے فوراً جواب دیا۔

’’جیسے آپ سے؟‘‘

سکندر نے پہلی بار ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا۔

’’جیسے مجھ سے، مگر تم پہلے اپنی کتاب مکمل کر لو۔ ‘‘

ماہ نور کی مسکراہٹ غائب ہو گئی۔

’’آپ کو کس نے بتایا کہ میں پڑھ نہیں رہی؟‘‘

’’تمہاری کتاب میں وہی صفحہ دو گھنٹے سے کھلا ہوا ہے۔‘‘

وہ حیرت سے اپنی کتاب کی طرف دیکھنے لگی۔

سکندر نے اس کے سر پر ہلکی سی چپت لگائی۔

’’اب جاؤ۔ اور ہاں، امتحان میں اچھے نمبر نہ آئے تو یہ مت کہنا کہ کسی نے تمہاری مدد نہیں کی۔‘‘

’’میں اچھے نمبر لوں گی!‘‘ اس نے فوراً جواب دیا۔

’’دیکھتے ہیں۔‘‘

وہ وہاں سے چلا گیا۔

ماہ نور اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہی، پھر اپنی کتاب اٹھا کر کمرے کی طرف بھاگ گئی۔

اس رات اس نے واقعی اپنا سبق مکمل کیا تھا۔

کیونکہ سکندر شاہ نے کہا تھا کہ اسے اچھے نمبر لینے چاہییں

اور ۔

بارہ سال کی ماہ نور کے لیے یہ بات کافی تھی۔

اس وقت سکندر شاہ اس کے لیے صرف ایک ایسا بڑا تھا جس کی باتوں میں اسے مضبوطی، سمجھ داری اور اعتماد دکھائی دیتا تھا۔ وہ اس کی شخصیت سے متاثر تھی، اس کے فیصلوں کی قدر کرتی تھی اور چاہتی تھی کہ ایک دن وہ بھی اتنی ہی سمجھ دار بنے۔

اسے ابھی زندگی کے ان جذبوں کا علم نہیں تھا جنہیں سمجھنے کے لیے عمر، وقت اور تجربہ درکار ہوتا ہے۔

اسے صرف اتنا معلوم تھا کہ جب سکندر شاہ کسی بات کو سمجھاتے تھے تو مشکل چیزیں بھی آسان لگنے لگتی تھیں۔

اور بعض یادیں زندگی میں اسی طرح جگہ بناتی ہیں۔

بہت خاموشی سے، بہت سادگی سے، بغیر کسی اعلان کے۔

پھر وقت گزرتا ہے، بچپن پیچھے رہ جاتا ہے، اور وہی یادیں ایک دن ماضی کے دریچوں سے جھانک کر ہمیں احساس دلاتی ہیں کہ کچھ لوگ ہماری زندگی میں کتنی گہری جگہ رکھتے تھے۔

مگر اس وقت ماہ نور ان باتوں سے بے خبر تھی۔

وہ اپنی کتاب کے آخری صفحے پر جھکی ہوئی تھی، اور حویلی کے باہر شام کی روشنی آہستہ آہستہ رات میں ڈھل رہی تھی۔

دس برس بعد

وقت کسی کے لیے نہیں رکتا۔

نہ اس لڑکی کے لیے جو اپنے پسندیدہ شخص کی تعریف سننے کے لیے بے چین رہتی تھی، نہ اس شخص کے لیے جسے اندازہ تک نہیں تھا کہ اس کی معمولی سی باتیں کسی کے ذہن میں برسوں محفوظ رہ سکتی ہیں۔

دس برس گزر گئے۔

بارہ سالہ ماہ نور اب بائیس برس کی ہو چکی تھی۔

اس کی آنکھوں میں اب بچپن کی حیرت کے بجائے ایک ٹھہرا ہوا اعتماد تھا۔ وہ اپنی تعلیم مکمل کر چکی تھی، اپنے فیصلے خود کرنا سیکھ رہی تھی، اور اب اسے یہ بھی معلوم تھا کہ زندگی میں ہر مسئلے کا حل کسی دوسرے شخص کے پاس نہیں ہوتا۔

اس نے تاریخی عمارتوں کی بحالی اور تحفظ کی تعلیم حاصل کی تھی۔ پرانی عمارتوں کی دیواروں، لکڑی کے دروازوں اور خاموش برآمدوں میں اسے صرف ماضی کے آثار دکھائی نہیں دیتے تھے، بلکہ وہ ان کے پیچھے چھپی کہانیوں کو بھی محسوس کرنے کی کوشش کرتی تھی۔ شاید اسی لیے اس پرانی حویلی سے اس کی وابستگی وقت کے ساتھ مزید گہری ہو گئی تھی۔

لیکن ایک چیز نہیں بدلی تھی۔

سکندر شاہ کے سامنے آتے ہی اس کا دل آج بھی معمول سے ذرا تیز دھڑکنے لگتا تھا۔

فرق صرف اتنا تھا کہ اب وہ اس کیفیت کو پہچانتی تھی۔

اب وہ جانتی تھی کہ یہ محض پسندیدگی نہیں رہی۔

یہ محبت تھی۔

ایسی محبت جس کے بارے میں اس نے کبھی کسی سے بات نہیں کی تھی۔ نہ اپنی ماں سے، نہ اپنی قریبی دوست حورین سے، حتیٰ کہ کبھی اپنی ڈائری میں بھی اس کا نام لکھنے کی ہمت نہیں کی تھی۔

حورین اس کی صرف دوست نہیں تھی، بلکہ اس کے بچپن کی ساتھی اور اس کے بہت سے رازوں کی امین بھی تھی۔

حورین کے والد کریم بخش برسوں سے شاہ خاندان کے ساتھ وابستہ تھے۔ وہ اس حویلی کے پرانے ملازم تھے۔

حورین اسی حویلی کے ماحول میں پلی بڑھی تھی۔ ماہ نور اور اس نے ایک ہی صحن میں کھیلتے ہوئے بچپن گزارا تھا، ایک دوسرے کے ساتھ چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑا کیا تھا، پھر چند ہی لمحوں بعد ہنس کر صلح بھی کر لی تھی۔

شاہ خاندان نے کبھی حورین کو محض ایک ملازم کی بیٹی سمجھ کر اس سے فاصلہ نہیں رکھا تھا۔ وہ اس گھر کی اپنائیت میں پلی بڑھی تھی، اور ماہ نور کے لیے تو اس کی حیثیت کسی بہن سے کم نہیں تھی۔

شاید اسی لیے حورین ماہ نور کے چہرے کی خاموشی بھی پڑھ لیتی تھی، مگر ایک بات ایسی تھی جسے ماہ نور نے آج تک اپنے لبوں پر آنے نہیں دیا تھا۔

سکندر شاہ کا نام۔

کیونکہ وہ جانتی تھی کہ سکندر شاہ ماہ نور کو کس نظر سے دیکھتا تھا۔

اس کے لیے وہ اب بھی خاندان کی وہی چھوٹی سی لڑکی تھی جسے وقت پر کھانا کھانے، اپنی پڑھائی مکمل کرنے اور غیر ضروری بحث سے بچنے کی نصیحت کی جاتی تھی۔

اور شاید یہی بات سب سے زیادہ تکلیف دہ تھی۔

کہ جس شخص کو اس نے برسوں اپنی دعاؤں میں مانگا تھا، اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ کوئی اسے اس طرح چاہ سکتا ہے۔

اس صبح حویلی کے باغ میں معمول سے زیادہ رونق تھی۔

رات کی ہلکی بارش کے بعد پودوں کے پتے دھلے دھلے دکھائی دے رہے تھے۔ مالی پودوں کو پانی دے کر ابھی ابھی اندر گیا تھا، اور باغ کے ایک حصے میں جمع پانی سورج کی روشنی میں چمک رہا تھا۔

ماہ نور اور حورین باغ میں فٹ بال کھیل رہی تھیں۔

حورین نے گیند ماہ نور کی طرف اچھالی تو ماہ نور نے اسے پاؤں سے روکنے کی کوشش کی، مگر گیند ذرا آگے نکل گئی۔

’’ماہ نور! سامنے دیکھ کر کھیلو!‘‘ حورین ہنستے ہوئے بولی۔

’’میں دیکھ ہی رہی ہوں! تم اپنی گیند سیدھی کیوں نہیں پھینکتیں؟‘‘

’’اچھا جی! اب تمہیں گیند بھی تمہاری مرضی کے مطابق چاہیے؟‘‘

’’بالکل!‘‘ ماہ نور نے شرارت سے جواب دیا۔ ’’اور اگر تم نے دوبارہ غلط پاس دیا تو میں تمہیں اپنی ٹیم سے نکال دوں گی۔‘‘

’’تمہاری ٹیم؟ یہ باغ تمہارے نام کس نے کر دیا؟‘‘

دونوں کی ہنسی باغ میں پھیل گئی۔

ماہ نور نے گیند واپس حورین کی طرف بڑھانے کے لیے پاؤں آگے کیا، مگر گیند اس کے پاؤں سے ٹکرا کر ایک طرف نکل گئی۔

اگلے ہی لمحے گیند باغ کے اس حصے میں جا گری جہاں پودوں کو پانی دینے سے زمین گیلی ہو گئی تھی۔

گیند کے پانی میں گرتے ہی چھینٹے اڑے۔

اور بدقسمتی سے اسی وقت بتیس سالہ سکندر شاہ برآمدے سے نکل کر گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھاوقت نے دس برس کا طویل سفر طے کر لیا تھا، مگر اس کے وجود پر جیسے اس سفر کی گرد تک نہ ٹھہری تھی۔

پہلے کی طرح سیاہ لباس، کلائی پر بندھی گھڑی اور ہاتھ میں ضروری دستاویزات کی فائل تھی چہرے پر وہی سنجیدگی۔

اس نے اہم میٹنگ میں شرکت کے لیے جانا تھا۔ اس کے چہرے سے ظاہر تھا کہ وہ پہلے ہی وقت کی کمی کا شکار تھا۔

گیند سے اڑنے والے چند چھینٹے اس کے لباس کے نچلے حصے پر جا گرے۔

وہیں رک گیا۔

چند لمحوں کے لیے باغ میں مکمل خاموشی چھا گئی۔

ماہ نور کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو گئی، جبکہ حورین کے ہاتھ بے اختیار اپنے منہ کے سامنے جا رکے۔

’’یا اللہ!‘‘ حورین نے دھیمی آواز میں کہا۔

ماہ نور نے پہلے گیند کو دیکھا، پھر سکندر کو۔

سکندر نے اپنے لباس پر پڑے پانی کے نشانات کی طرف دیکھا۔ اس کی پیشانی پر سنجیدگی کی لکیر گہری ہو گئی۔

’’یہ کیا ہو رہا ہے یہاں؟‘‘

اس کی آواز بلند نہیں تھی، لیکن اس کے لہجے کی سختی دونوں لڑکیوں کے لیے کافی تھی۔

ماہ نور نے فوراً آگے بڑھ کر کہا، ’’سکندر بھاءی، معاف کیجیے گا۔ گیند غلطی سے پانی میں چلی گئی تھی۔ ہمیں اندازہ نہیں ہوا کہ آپ اسی وقت یہا سے گزریں گے

پھر۔

ماہ نور خاموش ہو گئ

اس کی نگاہ ماہ نور کی طرف منتقل ہوئی۔

’’ ماہ نور، اب اتنی بڑی ہو گئی ہو کہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ سکو۔ ہر وقت بچپن کی طرح بے فکری سے کام نہیں چلتا۔

ماہ نور کے دل میں ایک ہلکی سی چبھن اٹھی۔

اس نے دھیرے سے جواب دیا، ’’جی، آئندہ خیال رکھوں گی۔‘‘

سکندر نے سر ہلایا اور اندر کی طرف بڑھ گیا۔

چند قدم چلنے کے بعد وہ رکا اور پلٹ کر بولا، ’’اور گیند کو اب اس طرف مت لانا۔ یہاں زمین گیلی ہے، پھسلنے کا خطرہ ہے۔‘‘

یہ کہہ کر وہ اندر چلا گیا۔

کچھ لمحے دونوں لڑکیاں خاموش کھڑی رہیں۔

پھر حورین نے گہری سانس لی۔

’’میرا خیال ہے، آج ہماری فٹ بال کی چھٹی ہو گئی۔‘‘

ماہ نور نے اسے دیکھا اور بے اختیار ہنس دی۔تمہیں ابھی بھی فٹ بال کی پڑی ہے؟‘‘

’’وہ ان کے لباس پر پانی کے چھینٹے پڑتے دیکھ کر مجھے لگا تھا کہ آج تو ہماری خیر نہیں۔حورین نےکہا‘‘

ماہ نور کی ہنسی دھیرے دھیرے مدھم ہو گئی۔

’’وہ ایسے ہی ہیں، حورین۔ ہر چیز اپنے طریقے سے، اپنے وقت پر اور بالکل درست چاہتے ہیں۔‘‘

حورین نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا۔

’’اور تم؟ تم ہمیشہ ان کی ہر بات کو اتنی سنجیدگی سے کیوں لیتی ہو؟‘‘

ماہ نور نے فوراً نظریں چرا لیں۔

’’کیونکہ وہ گھر کے بڑے ہیں۔ ان کی بات کا احترام کرنا چاہیے۔‘‘

حورین کے لبوں پر ایک معنی خیز مسکراہٹ ابھری۔

’’بالکل۔ صرف احترام ہی تو ہے۔‘‘

ماہ نور نے اسے گھورا۔

’’حورین!‘‘

’’اچھا بھئی، میں نے کچھ نہیں کہا۔‘‘ حورین نے ہنستے ہوئے دونوں ہاتھ اٹھا دیے۔

ماہ نور نے گیند اٹھائی اور اس کے ہاتھ میں تھما دی۔

’’اب چلو، اس سے پہلے کہ تم کوئی اور بات شروع کر دو۔‘‘

دونوں اندر کی طرف چل پڑیں، لیکن ماہ نور کے ذہن میں سکندر کے الفاظ اب بھی گونج رہے تھے۔

اب اتنی بڑی ہو گئی ہو کہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ سکو۔

اس نے دل ہی دل میں سوچا، کاش آپ ایک بار مجھے میری عمر کے مطابق دیکھ پاتے، سکندر شاہ۔

وہ یہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ اس کے لیے اپنی شخصیت بدل لے۔ اسے سکندر کی سنجیدگی، اس کے اصول اور اس کی مضبوط طبیعت ہی تو پسند تھی۔

بس وہ چاہتی تھی کہ کبھی کسی دن سکندر اس کی بات سنتے ہوئے اسے اس چھوٹی سی بچی کے بجائے ایک بالغ انسان سمجھے، جس کے اپنے خواب، اپنی سوچ اور اپنے فیصلے ہیں۔

شام کے وقت

’’ماہ نور! گاڑی آ گئی ہےاب اور کتنی دیر ہے امی تمہارا انتطار کر رہی ہے۔‘‘

حورین کی آواز نے اس کے خیالات کا سلسلہ توڑ دیا۔

وہ اپنے کمرے کی کھڑکی کے سامنے کھڑی تھی۔ نیچے حویلی کے بڑے دروازے کے باہر سیاہ گاڑی شاپنگ مال جانے کے لیے رکی ہوئی تھی۔

ماہ نور نے ایک نظر آئینے میں خود کو دیکھا، دوپٹے کو درست کیا اور اپنا بیگ اٹھا لیا۔

’’آ رہی ہوں!‘‘

وہ سیڑھیاں اترتی ہوئی نیچے پہنچی تو حویلی کے مرکزی دروازے کے پاس سکندر کھڑا تھا۔

ماہ نور کے قدم ایک لمحے کے لیے سست پڑ گئے۔

سکندر نے نگاہ اٹھائی۔

’’تم تیار ہو؟‘‘

ماہ نور نے اپنے دل کو سمجھاتے ہوئے جواب دیا۔

’’جی۔‘‘

اس نے اس کے ہاتھ میں موجود بیگ کی طرف دیکھا۔

’’یہ کیا ہے؟‘‘

’’میرا بیگ۔‘‘

’’وہ تو مجھے بھی نظر آ رہا ہے۔ میں پوچھ رہا ہوں، اس میں کیا ہے؟‘‘

ماہ نور نے ابرو سکیڑے۔

’’میرا سامان۔‘‘

سکندر نے ایک گہری سانس لی۔

’’تم دس سال بعد بھی بات کا سیدھا جواب دینا نہیں سیکھیں۔‘‘

ماہ نور کے دل میں ایک تلخ سی مسکراہٹ ابھری۔

اور آپ دس سال بعد بھی مجھے بچی سمجھنا نہیں چھوڑ سکے، سکندر شاہ۔

لیکن زبان سے صرف اتنا کہا:

’’کچھ عادتیں دیر سے جاتی ہیں۔‘‘

سکندر نے اسے چند لمحے دیکھا۔

شاید پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ ماہ نور کے جواب میں پہلے جیسی معصومیت نہیں تھی۔

’’اچھا۔ گاڑی میں بیٹھو۔ سب تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔‘‘

وہ آگے بڑھ گیا۔

ماہ نور اپنی جگہ کھڑی رہی۔

اسے اس شخص سے کوئی شکایت نہیں تھی کہ وہ اس کی محبت سے بے خبر تھا۔ آخر اس نے کبھی اپنے دل کی بات کہی ہی کب تھی؟

مگر کبھی کبھی وہ سوچتی تھی کہ اگر سکندر ایک بار اسے بچی سمجھ کر نصیحت کرنے کے بجائے ایک انسان سمجھ کر اس کی بات سن لے، تو شاید اس کے دل کا بوجھ کچھ ہلکا ہو جائے۔

اس نے گہری سانس لی اور گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔

اسے ابھی نہیں معلوم تھا کہ آنے والے دنوں میں یہی حویلی، یہی برآمدے اور یہی شخص اس کی زندگی کے سب سے مشکل فیصلوں کا حصہ بننے والے تھے۔

اور سکندر شاہ؟

وہ ابھی تک اس حقیقت سے بالکل بے خبر تھا کہ اس کے سامنے کھڑی لڑکی کے دل میں اس کے لیے ایک ایسی جگہ بن چکی تھی جہاں تک پہنچنے کا راستہ خود اسے بھی معلوم نہیں تھا۔

کچھ محبتیں اظہار سے نہیں، انتظار سے شروع ہوتی ہیں۔ مگر ہر انتظار کا اختتام ایک جیسا نہیں ہوتا۔

جاری ہے۔۔۔ ❤️

Toca un párrafo para aplaudir las partes que más te gustaron.

¿Qué te pareció?

Inicia sesión para aplaudir

¿Qué te pareció este capítulo?

Iniciar sesión para escribir una reseña también.

Reseñas

Aún no hay reseñas. Sé el primero.