Mystery World Lab📚
Mystery World Lab پُراسرار افسانے تخلیق کرتا ہے جو متوازی جہانوں، ناقابلِ توضیح مظاہر، عجیب و غریب دنیاؤں، اور انسانی فہم سے پرے حقیقتوں کی کھوج کرتے ہیں۔
ہر کہانی ایک انجانے جہاں کا دروازہ کھولتی ہے۔
سیریز
I Got Off at an Unknown Station on the Last Train. Everyone on the Platform Was Going to Die Tomorrow.
آخری ٹرین میں میری آنکھ لگ گئی، اور جب کھلی تو ڈبے میں کوئی نہ تھا۔ مجھے ایک انجانے "آخری اسٹیشن" پر اتار دیا گیا تھا۔ وہاں میرے علاوہ پانچ اور مسافر پھنسے ہوئے تھے۔ کچھ ہی دیر میں پلیٹ فارم کے الیکٹرانک بورڈ پر چھ پراسرار اوقات نمودار ہوئے۔ پھر مسافروں کے فونوں پر ایسی خبریں آنے لگیں جو ابھی ہوئی ہی نہیں تھیں — "کل کی موت کی خبریں"۔ اسٹیشن ماسٹر نے بتایا: یہ اوقات ان کی موت کے مقررہ وقت ہیں۔ اور اس اسٹیشن سے واپس صرف ایک شخص جا سکتا ہے۔ لیکن چھ مسافروں میں سے مرنے والے صرف پانچ ہیں۔ نہ جانے کیوں، صرف میرے لیے کوئی وقتِ وفات درج نہیں۔ میں اس اسٹیشن پر آیا ہی کیوں؟ اور پھر اسٹیشن ماسٹر نے ایک اور انوکھی بات کہی: *"یہ اسٹیشن آپ نے خود بلایا تھا۔"* جہاں صرف کل مرنے والے جمع ہوتے ہیں — اس اسٹیشن پر، ایک رات، تقدیر کا فیصلہ ہونے والا ہے۔

Every Time I Woke Up, the World Gained a Single Line
ہر بار جب آنکھ کھلتی، دنیا سے کوئی ایک چیز غائب ہو جاتی۔ شروع میں بس ایک ہلکی سی بے چینی تھی۔ کل تک جو "گہرائی" عام بات تھی، وہ ختم ہونے لگی — اور دنیا آہستہ آہستہ کسی اور ہی شکل میں ڈھلتی گئی۔ ایک بُعد، دو بُعد، تین بُعد — جس دنیا میں یہ زندگی گزار رہا تھا، اس کے اصول بھی اب قابلِ بھروسہ نہ رہے۔ پھر ایک دن، چپٹی ہو چکی ایک انسانی شکل نے کردار کی آنکھوں میں جھانکا، اور کانپتی آواز میں پوچھا: *"تمہارے اندر جو دوسرا ہے — وہ کون ہے؟"* کیا دنیا بدل گئی ہے؟ یا خود اس میں کچھ گڑبڑ ہے؟ ہر بار جب بُعد بدلتا ہے، اس دنیا کا کوئی نہ کوئی راز بے نقاب ہوتا ہے۔ اور اس سفر کے آخر میں جو "اصل حقیقت" منتظر ہے — وہ کیا ہے؟
