Chapter 2

باب دوم

رات کے کھانے کی میز پر سب لوگ موجود تھے۔

حاجی سلیمان شاہ اپنے مخصوص انداز میں کھانے کے ساتھ ساتھ گھر کے معاملات پر بھی گفتگو کر رہے تھے۔ عدیل کسی کاروباری معاملے کا ذکر کر رہا تھا، حورین سائرہ والدہ کو دن بھر کا کوئی دلچسپ واقعہ سنا رہی تھی، جبکہ ماہ نور خاموشی سے اپنی پلیٹ میں کھانا ڈال رہی تھی۔

سکندر شاہ حسبِ معمول میز کے دوسرے سرے پر بیٹھا تھا۔ اس کے چہرے پر وہی سنجیدگی تھی جسے دیکھ کر اکثر لوگ اپنی بات کہنے سے پہلے دو مرتبہ سوچتے تھے۔

کچھ دیر بعد حاجی سلیمان شاہ نے پانی کا گلاس میز پر رکھا اور سکندر کی طرف دیکھا۔

’’سکندر بیٹا، کاروبار تو تم نے بہت سنبھال لیا۔ اب زندگی کے ایک اور اہم معاملے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔‘‘

سکندر نے نظریں اٹھائیں۔

’’کون سا معاملہ، بابا؟‘‘

حاجی صاحب مسکرائے۔

’’اب تمہاری شادی کا معاملہ بھی دیکھنا چاہیے۔ آخر کب تک تم اپنی زندگی کو کاروبار اور فائلوں تک محدود رکھو گے؟‘‘

میز پر گفتگو کا شور آہستہ آہستہ کم ہو گیا۔

ماہ نور کے ہاتھ میں پکڑا ہوا چمچ ایک لمحے کے لیے رک گیا۔

وہ بظاہر اپنی پلیٹ کی طرف دیکھ رہی تھی، مگر اس کے اندر جیسے کسی نے اچانک کوئی کھڑکی کھول دی ہو، جس سے ایک انجانا خوف خاموشی سے اس کے دل میں داخل ہو گیا تھا۔

شادی۔

یہ لفظ اسے ہمیشہ عجیب سا محسوس ہوتا تھا۔ دوسروں کے لیے یہ ایک خوبصورت آغاز تھا، ایک نئے رشتے کا نام، لیکن اس کے لیے اس لفظ کے ساتھ ایک ایسا امکان بھی جڑا تھا جس کے بارے میں سوچنے سے وہ خود کو روکتی آئی تھی۔

ایک دن سکندر شاہ کی زندگی میں کوئی اور عورت آ جائے گی۔

کوئی ایسی عورت جسے اس کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہوگا۔ جو اس کی خاموشی کے پیچھے موجود تھکن کو پہچانے گی، اس کے دن بھر کے کام کے بعد اس کے لیے چائے رکھے گی، اور جس کے سامنے سکندر کو اپنے جذبات چھپانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی۔

اور ماہ نور؟

وہ شاید اسی حویلی کے کسی کمرے میں بیٹھ کر اس نئے رشتے کی خوشی میں سب کے ساتھ مسکرا رہی ہوگی۔

’’کیا خیال ہے تمہارا؟‘‘ حاجی صاحب نے پوچھا۔ ’’کوئی لڑکی پسند ہے؟ یا ہم تمہارے لیے مناسب رشتہ تلاش کریں؟‘‘

سکندر نے بے تاثر لہجے میں جواب دیا۔

’’بابا، مجھے ان معاملات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔‘‘

حاجی صاحب نے اسے غور سے دیکھا۔

’’دلچسپی نہیں ہے یا تم نے کبھی اس بارے میں سوچا ہی نہیں؟‘‘

’’دونوں میں سے جو بھی سمجھ لیں۔ فی الحال میری زندگی میں شادی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔‘‘

’’سکندر، شادی بھی زندگی کا ایک حصہ ہے۔ ہر وقت کام میں مصروف رہنا مناسب نہیں۔‘‘

’’میں اپنی زندگی سے مطمئن ہوں، بابا۔ مجھے کسی لڑکی کی تلاش ہے، نہ میں کسی رشتے کے لیے تیار ہوں۔ بابا جان ابھی اس موضوع کو رہنے دیں۔‘‘

اس کے لہجے میں بدتمیزی نہیں تھی، لیکن فیصلہ اتنا واضح تھا کہ مزید اصرار کی گنجائش کم رہ گئی۔

حاجی سلیمان شاہ نے ایک گہری سانس لی۔

’’اچھا، ابھی رہنے دیتے ہیں۔ لیکن یاد رکھنا، زندگی صرف ذمہ داریوں کا نام نہیں۔ کبھی کبھی کسی اپنے کی موجودگی بھی انسان کو مکمل سکون دیتی ہے۔‘‘

سکندر نے جواب میں صرف سر ہلا دیا۔

’’جی، بابا۔‘‘

گفتگو پھر کسی دوسرے موضوع کی طرف مڑ گئی۔

حورین نے ماہ نور کی طرف دیکھا، مگر اس کے چہرے پر پھیلی خاموشی نے اسے کوئی مذاق کرنے سے روک دیا۔

ماہ نور نے دوبارہ کھانا شروع کر دیا تھا۔

کم از کم دیکھنے والوں کو ایسا ہی لگ رہا تھا۔

اس نے اپنے چہرے پر معمول کی سنجیدگی برقرار رکھی، مگر دل کے اندر ایک عجیب سی اداسی اتر آئی تھی۔ سکندر نے شادی سے انکار کیا تھا، اور اسے اس انکار سے خوش ہونا چاہیے تھا۔

مگر محبت کبھی کبھی انسان کو ایسی خوشی بھی نہیں دے پاتی جسے وہ برسوں سے اپنے دل میں چھپا کر رکھتا ہے۔

وہ نہیں جانتی تھی کہ سکندر واقعی کبھی شادی نہیں کرنا چاہتا، یا اس وقت صرف اپنی آزادی اور مصروف زندگی کو کسی نئے رشتے کے لیے بدلنے پر آمادہ نہیں تھا۔

وہ صرف اتنا جانتی تھی کہ اس کے دل نے ایک لمحے کے لیے امید کا دروازہ کھولا تھا، اور اگلے ہی لمحے اسے خود ہی بند کرنا پڑا۔

کیونکہ سکندر کے انکار میں اس کے لیے کوئی وعدہ نہیں تھا۔

وہ کسی اور کو نہیں چاہتا تھا، مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں تھا کہ وہ ماہ نور کو چاہتا تھا۔

اور شاید یہی فرق سب سے زیادہ تکلیف دہ تھا۔

’’ماہ نور، تم نے کھانا کیوں چھوڑ دیا؟‘‘ سائرہ کی آواز پر وہ چونکی۔

’’نہیں، امی، کھا رہی ہوں۔‘‘

اس نے ایک لقمہ لیا اور مسکرانے کی کوشش کی۔

سکندر کی نگاہ اتفاقاً اس پر پڑی۔

’’طبیعت ٹھیک ہے؟‘‘ اس نے پوچھا۔

ماہ نور نے فوراً سر اٹھایا۔

اس ایک سوال نے اس کے دل میں چھپی ہوئی ساری اداسی کو جیسے مزید گہرا کر دیا۔ وہ چاہتی تھی کہ سکندر اس سے کچھ اور پوچھے، اس کے چہرے کو غور سے دیکھے، اس خاموشی کی وجہ جاننے کی کوشش کرے۔

مگر وہ یہ بھی جانتی تھی کہ وہ ایسا کوئی حق نہیں رکھتی۔

’’جی، بالکل ٹھیک ہوں۔‘‘

’’تو پھر کھانا کھاؤ۔‘‘

وہ دوبارہ اپنی پلیٹ کی طرف متوجہ ہو گیا۔

بس اتنی سی بات تھی۔

سکندر نے ایک عام سا جملہ کہا تھا، اور پھر اپنے کھانے میں مصروف ہو گیا تھا۔

مگر ماہ نور کے دل نے اس معمولی سی توجہ کو بھی سنبھال کر رکھ لیا، بالکل ویسے ہی جیسے برسوں پہلے وہ اس کی کہی ہوئی چھوٹی چھوٹی باتیں یاد رکھا کرتی تھی۔

کچھ لوگ محبت کے نام پر بڑے بڑے وعدے کرتے ہیں۔

اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے لیے محبت کا مطلب صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ شخص ایک مرتبہ پوچھ لے:

تم ٹھیک ہو؟

خواہ اسے یہ معلوم نہ ہو کہ اس سوال کا جواب اس کے اپنے نام سے جڑا ہوا ہے۔

اگلی دوپہر حویلی کا باغ دھوپ اور چھاؤں کے درمیان خاموشی سے سانس لے رہا تھا۔

پرانے درختوں کی شاخوں سے چھن کر آتی ہوئی روشنی گھاس پر سنہری دھبے بنا رہی تھی۔ گلاب کی کیاریوں کے قریب ہوا میں پھولوں کی ہلکی سی خوشبو گھلی ہوئی تھی، اور باغ کے ایک کونے میں لگا پرانا جھولا آہستہ آہستہ ہوا کے ساتھ حرکت کر رہا تھا۔

ماہ نور اسی جھولے پر بیٹھی تھی۔

اس کی گود میں ایک کتاب کھلی ہوئی تھی، لیکن گزشتہ کئی منٹوں سے اس کی نظریں ایک ہی صفحے پر جمی ہوئی تھیں۔

وہ پڑھنے کی کوشش کر رہی تھی، مگر رات کے کھانے کی گفتگو بار بار اس کے ذہن میں لوٹ آتی۔

مجھے ان معاملات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

سکندر کے الفاظ اس کے ذہن میں گونجتے، اور وہ بے اختیار کتاب بند کر دیتی۔

اسے اپنے جذبات پر خود بھی کبھی کبھی حیرت ہوتی تھی۔

وہ سکندر سے کوئی وعدہ نہیں مانگتی تھی۔ اس نے کبھی اس کے سامنے اپنی محبت کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ اس کی خواہش تو صرف اتنی تھی کہ وقت کے ساتھ شاید سکندر اسے اس کی اپنی ذات کے طور پر دیکھنا شروع کر دے؛ ایک ایسی لڑکی کے طور پر جس کے خواب، خیالات اور احساسات تھے۔

لیکن شاید ہر خواہش کا پورا ہونا ضروری نہیں ہوتا۔

کچھ خواہشیں انسان کو اپنے دل کی گہرائی سمجھانے کے لیے ہوتی ہیں، انہیں حقیقت بننے کے لیے نہیں۔

اچانک اس کی نظر جھولے کے سامنے موجود پھولوں پر پڑی۔

دو تتلیاں پھولوں کے درمیان منڈلا رہی تھیں۔ ایک کے پروں پر ہلکا نیلا رنگ تھا اور دوسری کے پر زرد دھوپ کی طرح چمک رہے تھے۔

ماہ نور کے چہرے پر کئی دنوں بعد بے ساختہ مسکراہٹ آئی۔

’’ارے، رکو تو سہی!‘‘

اس نے کتاب جھولے پر رکھی اور ان کے پیچھے چل پڑی۔

تتلیاں کبھی ایک پھول پر بیٹھتیں، کبھی ہوا میں بلند ہو جاتیں۔ ماہ نور بھی بچپن کی طرح انہیں پکڑنے کے لیے نہیں، بس ان کے قریب پہنچنے کی خوشی میں ان کے پیچھے چلتی رہی۔

ایک لمحے کے لیے وہ اپنی تمام فکریں بھول گئی۔

نہ شادی کا ذکر، نہ سکندر کی بے خبری، نہ وہ محبت جسے اپنے اندر چھپا کر رکھنا اس کے لیے دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا تھا۔

بس باغ تھا، تتلیاں تھیں اور ایک مختصر سی خوشی تھی جو کسی سے اجازت نہیں مانگتی تھی۔

پھر اچانک اس کا پاؤں کیاری کے کنارے پر پڑے ایک نوکیلے کیل سے ٹکرا گیا، جو وہاں پڑے پرانے لکڑی کے ٹکڑے سے باہر نکلا ہوا تھا۔

’’آہ!‘‘

اس کے منہ سے درد بھری چیخ نکلی۔

وہ فوراً رک گئی اور اپنا پاؤں پیچھے کھینچ لیا۔ درد کے باعث اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

’’یا اللہ!‘‘

اس نے دیوار کے قریب موجود پتھر پر بیٹھنے کی کوشش کی، مگر اچانک اٹھنے کی وجہ سے اس کا توازن بگڑ گیا۔

’’ماہ نور!‘‘

ایک مانوس، گہری آواز سنائی دی۔

سکندر چند قدم کے فاصلے پر کھڑا تھا۔ شاید وہ دفتر جانے سے پہلے باغ سے گزر رہا تھا۔ ماہ نور کی آواز سنتے ہی اس نے فون جیب میں رکھا اور تیزی سے اس کی طرف آیا۔

’’کیا ہوا؟‘‘

ماہ نور نے درد کے باعث جواب دینے کے بجائے اپنے پاؤں کی طرف اشارہ کیا۔

سکندر نے نیچے دیکھا تو اس کی نظر لکڑی کے کنارے سے باہر نکلے ہوئے کیل پر پڑی۔

اس کے چہرے پر فوراً تشویش ابھری۔

’’یہاں اس طرح کیوں چل رہی تھیں؟ ذرا دھیان نہیں رکھ سکتیں؟‘‘

ماہ نور نے درد کے باوجود اسے دیکھا۔

’’میں چل نہیں رہی تھی، وہ تتلیاں—‘‘

’’تتلیاں؟‘‘ سکندر نے ایک نظر باغ کی طرف دیکھا، پھر دوبارہ اس کی طرف متوجہ ہوا۔ ’’تم تتلیوں کے پیچھے بھاگ رہی تھیں؟‘‘

ماہ نور نے دھیمی آواز میں کہا، ’’وہ بہت خوبصورت تھیں۔‘‘

سکندر نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں، جیسے اسے سمجھ نہ آ رہا ہو کہ اس لڑکی کو کیا کہے۔

’’تم اب بچی نہی ہو، ماہ نور۔ اب ہر خوبصورت چیز کے پیچھے یوں بھاگنا ضروری ہے؟‘‘

ماہ نور نے جواب نہیں دیا۔

سکندر نے مزید کچھ کہنے کے بجائے اسے سہارا دیا اور احتیاط سے قریبی بینچ تک لے آیا۔

’’یہاں بیٹھو۔ پاؤں دکھاؤ۔‘‘

وہ اس کے سامنے جھک کر کیل کو دیکھنے لگا۔ کیل لکڑی کے ٹکڑے میں پھنسا ہوا تھا اور اس کے کنارے سے باہر نکلا ہوا تھا۔

سکندر نے پہلے ماہ نور سے پوچھا کہ درد کہاں ہو رہا ہے، پھر احتیاط سے اس کے پاؤں کو دیکھتے ہوئے لکڑی سے کیل نکالا اور اسے ایک طرف رکھ دیا تاکہ دوبارہ کسی کو نقصان نہ پہنچے۔

اس کے چہرے پر اب بھی سختی تھی، مگر اس کی حرکات میں ایسی احتیاط تھی جسے وہ شاید خود بھی محسوس نہیں کر رہا تھا۔

’’زیادہ درد ہو رہا ہے؟‘‘

ماہ نور نے ہلکا سا سر ہلایا۔

’’تھوڑا سا۔‘‘

’’تھوڑا سا؟ ابھی تو چیخ رہی تھیں۔‘‘

’’تو کیا درد میں بھی آپ کی طرح خاموش رہوں؟‘‘

سکندر نے اسے دیکھا۔

ماہ نور کی آنکھوں میں درد کے باوجود ایک ہلکی سی شرارت تھی۔

’’بہت زبان چلنے لگی ہے تمہاری،‘‘ اس نے کہا۔

’’آپ کی صحبت کا اثر ہوگا۔‘‘

سکندر کے لبوں پر ایک لمحے کے لیے مسکراہٹ نمودار ہوئی، مگر اس نے فوراً اپنا چہرہ سنجیدہ کر لیا۔

’’یہیں بیٹھی رہو۔ میں مرہم منگواتا ہوں۔ اور اگر درد زیادہ ہے تو ڈاکٹر کو دکھائیں گے۔‘‘

وہ اٹھنے ہی لگا تھا کہ ماہ نور نے آہستہ سے کہا:

’’سکندر بھائی؟‘‘

وہ رک گیا۔

’’کیا؟‘‘

ماہ نور نے باغ کی طرف دیکھا۔ دونوں تتلیاں اب دور پھولوں کے اوپر منڈلا رہی تھیں۔

اس کے لبوں پر ایک ایسی مسکراہٹ آئی جس میں معصومیت بھی تھی اور ایک گہری تھکن بھی۔

’’آپ نے پوچھا تھا نا کہ میں تتلیوں کے پیچھے کیوں بھاگ رہی تھی؟‘‘

’’ہاں، پوچھا تھا۔‘‘

ماہ نور نے اپنی انگلیوں کو آپس میں الجھا لیا۔

’’کیونکہ جو چیز مجھے اچھی لگتی ہے، میرا دل اس کے قریب جانے کو چاہتا ہے۔‘‘

سکندر خاموش رہا۔

ماہ نور نے ایک لمحے کے لیے اس کی طرف دیکھا، پھر نظریں جھکا لیں۔

’’لیکن عجیب بات ہے، کبھی کبھی جس چیز کو انسان سب سے زیادہ پسند کرتا ہے، وہی اسے درد بھی دے جاتی ہے۔‘‘

باغ میں ہوا کا ایک ہلکا سا جھونکا گزرا۔

سکندر کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو گئی۔

اس نے ماہ نور کو غور سے دیکھا۔

’’یہ تتلیوں کے بارے میں کہہ رہی ہو؟‘‘

ماہ نور کا دل جیسے ایک لمحے کے لیے رک گیا۔

وہ چاہتی تو سچ کہہ سکتی تھی۔

یہ کہ کچھ محبتیں تتلیوں جیسی ہوتی ہیں؛ جتنی خوبصورت، اتنی ہی آزاد۔ انہیں دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے، مگر انہیں اپنا سمجھ لینے کی خواہش انسان کو بے چین کر دیتی ہے۔

یہ بھی کہ بعض اوقات کسی کے قریب ہونے کی خواہش میں انسان یہ بھول جاتا ہے کہ اس کے دل میں اس کے لیے جگہ ہے بھی یا نہیں۔

مگر اس نے صرف مسکرا کر کہا:

’’جی، تتلیوں کے بارے میں ہی۔‘‘

سکندر مطمئن نہیں ہوا۔

اسے محسوس ہوا کہ ماہ نور کے الفاظ کا مطلب اس کے جواب سے کہیں زیادہ گہرا تھا۔

’’ماہ نور، تم آج کل باتیں بہت گھما کر کرنے لگی ہو۔ سیدھی بات کیوں نہیں کہتیں؟‘‘

ماہ نور نے اس کی طرف دیکھا۔

اس کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے وہ تمام باتیں جمع ہو گئیں جنہیں وہ برسوں سے کہہ نہیں پائی تھی۔

پھر اس نے بہت آہستہ سے جواب دیا:

’’ہر سیدھی بات کہہ دینا آسان نہیں ہوتا، سکندر بھائی۔ کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں زبان پر لانے سے پہلے انسان کو یہ سوچنا پڑتا ہے کہ کہیں وہ کسی خوبصورت رشتے کو مشکل نہ بنا دے۔‘‘

سکندر کی نگاہ اس کے چہرے پر ٹھہر گئی۔

’’کون سا رشتہ؟‘‘

ماہ نور نے فوراً نظریں ہٹا لیں۔

’’کچھ نہیں۔ آپ کو مرہم منگوانا تھا نا؟‘‘

وہ خاموش ہو گیا۔

اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ ماہ نور کے پاس ایسے جملے ہیں جن کے پیچھے کوئی ایسی کہانی چھپی ہے جس سے وہ واقف نہیں۔

وہ اسے بچپن سے جانتا تھا۔ اس کی شرارتیں، ضد، خوشی میں ہنسنا اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر روٹھ جانا—یہ سب اس کے لیے مانوس تھا۔

مگر یہ خاموشی؟

یہ اس کے لیے نئی تھی۔

’’تم یہاں بیٹھو،‘‘ اس نے قدرے نرم لہجے میں کہا۔ ’’میں مرہم لے کر آتا ہوں۔‘‘

چند قدم چلنے کے بعد وہ پھر پلٹا۔

’’اور آئندہ باغ میں چلتے ہوئے زمین کی طرف بھی دیکھ لیا کرو۔ ہر وقت آسمان میں دیکھنا اچھا نہیں ہوتا۔‘‘

ماہ نور کے لبوں پر دھیمی سی مسکراہٹ آ گئی۔

’’جی، سکندر بھائی۔‘‘

وہ چلا گیا۔

ماہ نور نے اس کی پشت کو دیکھتے ہوئے

آنکھیں بند کر لیں۔

اس کے پاؤں میں درد تھا، مگر اس سے زیادہ تکلیف اس خیال میں تھی کہ جس شخص نے ابھی اتنی احتیاط سے اسے سہارا دیا تھا، اسے اس بات کا اندازہ تک نہیں تھا کہ اس کی موجودگی ماہ نور کے دل میں کتنی ہلچل پیدا کر دیتی ہے۔

کچھ ہی دیر میں سکندر مرہم اور صاف پٹی لے آیا۔ اس نے اس کی والدہ کو بھی اطلاع دی اور اصرار کیا کہ اگر درد برقرار رہے تو ڈاکٹر سے معائنہ کروایا جائے۔

ماہ نور خاموشی سے اس کی باتیں سنتی رہی۔

وہ اس کے لیے فکر مند تھا۔

اسے تکلیف میں دیکھ کر پریشان بھی ہوا تھا۔

اور پھر بھی ان تمام باتوں کا مطلب صرف اتنا تھا کہ وہ اس کے خاندان کا خیال رکھنے والا فرد تھا، جو کسی اپنے کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا۔

ماہ نور نے خود کو یہی سمجھایا۔

کیونکہ کبھی کبھی دل کو حقیقت سمجھانے کے لیے لفظ کافی نہیں ہوتے؛ اسے بار بار وہی حقیقت یاد دلانی پڑتی ہے جسے وہ قبول کرنے سے گھبراتا ہے۔

اور سکندر شاہ؟

وہ باغ سے واپس جاتے ہوئے کئی مرتبہ ماہ نور کے کہے ہوئے جملے کے بارے میں سوچتا رہا۔

جو چیز مجھے اچھی لگتی ہے، میرا دل اس کے قریب جانے کو چاہتا ہے۔ لیکن کبھی کبھی وہی چیز درد بھی دے جاتی ہے۔

اسے سمجھ نہیں آیا کہ ایک معمولی سی بات کے جواب میں ماہ نور نے اتنے اداس الفاظ کیوں کہے تھے۔

شاید وہ واقعی بدل گئی تھی۔

اسے ابھی معلوم نہیں تھا کہ بعض خاموشیاں کسی سوال کا جواب نہیں ہوتیں، بلکہ وہ خود ایک سوال ہوتی ہیں—ایسا سوال جسے سمجھنے کے لیے صرف سننا کافی نہیں، دل سے محسوس کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔

باغ سے واپس آنے کے بعد ماہ نور اپنے کمرے میں آ گئی۔

پاؤں میں اب بھی ہلکا سا درد تھا، مگر اس کے دل میں اٹھنے والی کیفیت اس درد سے کہیں زیادہ گہری تھی۔

اس نے دروازہ بند کیا اور چند لمحوں کے لیے اس کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑی رہی۔

ذہن میں بار بار سکندر کا چہرہ ابھر رہا تھا۔ وہ لمحہ جب وہ اس کی آواز سن کر فوراً اس کے پاس آیا تھا، جس احتیاط سے اس نے کیل نکالا تھا، اور پھر اس کا وہ سوال:

’’یہ تتلیوں کے بارے میں کہہ رہی ہو؟‘‘

ماہ نور کے لبوں پر ایک اداس مسکراہٹ پھیل گئی۔

کاش، آپ کو معلوم ہوتا کہ میں کس کے بارے میں بات کر رہی تھی، سکندر شاہ۔

وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی اپنی الماری کے پاس پہنچی۔ سب سے نچلے خانے میں کپڑوں کے نیچے ایک نیلے رنگ کی ڈائری رکھی تھی۔ اس نے ڈائری نکالی اور اسے اپنے سینے سے لگائے کچھ دیر خاموش کھڑی رہی۔

اس نے ڈائری کھولی۔

ابتدائی صفحات پر اس کی بچپن کی تحریر موجود تھی۔ کہیں کسی دن کی خوشی درج تھی، کہیں کسی چھوٹی سی خواہش کا ذکر، اور کہیں سکندر شاہ کی کہی ہوئی کسی معمولی بات کو اس نے اپنے لیے خاص سمجھ کر لکھ رکھا تھا۔

وہ ان صفحات کو دیکھ کر مسکرا دی۔

کتنا عجیب تھا نا؟

کسی کے لیے ایک لمحہ گزر جاتا ہے، اور کسی دوسرے کے لیے وہی لمحہ برسوں کی یاد بن جاتا ہے۔

اس نے صفحات پلٹے۔ درمیان میں زندگی کے بدلتے خیالات تھے، اپنی تعلیم مکمل کرنے کی خوشی تھی، پرانی عمارتوں کو محفوظ رکھنے اور ان کی بحالی کے خواب تھے۔ پھر وہ آخری چند صفحات پر آ گئی جو ابھی تک خالی تھے۔

ماہ نور نے قلم اٹھایا۔

کافی دیر تک سفید صفحے کو دیکھتی رہی۔

اس کے پاس کہنے کو بہت کچھ تھا، لیکن جب بھی وہ اپنے احساسات کو لفظوں میں ڈھالنے کی کوشش کرتی، اسے محسوس ہوتا جیسے کوئی لفظ اس کے دل کی پوری بات بیان نہیں کر سکتا۔

پھر اس نے آہستہ سے قلم کاغذ پر رکھا۔

اور پہلی بار اس نام کو لکھ دیا جسے وہ اپنے دل میں برسوں سے سنبھالے ہوئے تھی۔

سکندر شاہ۔

نام لکھنے کے بعد اس کی انگلیاں رک گئیں۔

وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی، جیسے کاغذ پر لکھا ہوا یہ نام اس کے دل کے کسی بند دروازے کی کنجی ہو۔

پھر اس نے اس کے نیچے لکھا:

آپ کو شاید کبھی معلوم نہ ہو کہ آپ میرے لیے کیا ہیں۔ اور شاید یہی بہتر ہے، کیونکہ میں نہیں جانتی کہ آپ کو بتانے کے بعد آپ کی آنکھوں میں اپنے لیے وہی عزت دیکھ بھی سکوں گی یا نہیں۔

اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔

اس نے قلم بند کر دیا۔

اس کے دل میں ایک سوال اٹھا۔

کیا محبت کا اظہار کرنا ضروری ہوتا ہے، جب انسان کو اس بات کا یقین ہی نہ ہو کہ اس کے اظہار کے بعد اس کے پاس وہی رشتہ باقی بھی رہے گا یا نہیں؟

ماہ نور کے لیے سکندر صرف ایک شخص نہیں تھا جسے وہ پسند کرتی تھی۔ وہ اس کے خاندان کا حصہ تھا، اس کی زندگی کی بہت سی یادوں میں شامل تھا، اور اس کی موجودگی اس گھر کو اس کے لیے مانوس بناتی تھی۔

وہ نہیں چاہتی تھی کہ اپنے جذبات کے بوجھ سے اس مانوسیت کو بھی بدل دے۔

وہ نہیں چاہتی تھی کہ سکندر کی نگاہوں میں اس کے لیے کوئی اجنبیت آ جائے۔

اور سب سے بڑھ کر، وہ نہیں چاہتی تھی کہ جس احترام کو وہ برسوں سے اپنے دل میں سنبھالے ہوئے تھی، اس کے اظہار کے بعد اسے خود اسی احترام کے کھو جانے کا خوف لاحق ہو جائے۔

اس نے ڈائری بند کی اور اسے واپس الماری میں رکھ دیا۔

پھر کھڑکی کے پاس جا کر کھڑی ہو گئی۔

نیچے صحن میں سکندر کی گاڑی کھڑی تھی۔

چند لمحوں بعد وہ خود بھی برآمدے سے گزرتا ہوا دکھائی دیا۔ فون پر کسی سے بات کرتے ہوئے اس کے چہرے پر وہی سنجیدگی تھی، وہی مصروفیت، وہی انداز جس سے لگتا تھا کہ دنیا کے بیشتر معاملات اس کے لیے واضح اور قابلِ حل ہیں۔

سوائے ان احساسات کے، جن کے بارے میں اسے ابھی کچھ معلوم نہیں تھا۔

ماہ نور اسے دیکھتی رہی۔

وہ شخص جسے وہ اتنے برسوں سے چاہتی تھی، اسی حویلی میں موجود تھا۔

صرف چند قدموں کے فاصلے پر۔

اور پھر بھی اس تک پہنچنا اس کے لیے دنیا کے سب سے طویل سفر جیسا تھا۔

اس نے کھڑکی بند کر دی۔

اسے ابھی معلوم نہیں تھا کہ ایک دن یہی شخص اس کی خاموشی کے پیچھے چھپی کہانی جاننے کے لیے بے چین ہو گا۔

ایک دن وہ بھی ان معمولی باتوں کے معنی تلاش کرے گا جنہیں آج وہ نظرانداز کر دیتا تھا۔

مگر وہ دن ابھی بہت دور تھا۔

فی الحال تو سکندر شاہ کے لیے ماہ نور صرف ایک ایسی لڑکی تھی جسے اچانک اپنی رائے دینا، اس سے بحث کرنا آ گیا تھا۔

اور ماہ نور کے لیے سکندر شاہ اب بھی وہ شخص تھا جس کی ایک مسکراہٹ اس کے پورے دن کو خوبصورت بنا سکتی تھی۔

فرق صرف اتنا تھا کہ وہ اس کے لیے ایک معمولی سی بات تھی، اور وہ اس کے لیے پوری ایک دنیا۔

کچھ محبتیں لفظوں میں لکھی جاتی ہیں، مگر جن کے نام پر لکھی جاتی ہیں، انہیں ان لفظوں کی خبر تک نہیں ہوتی۔

جاری ہے۔۔۔ ❤️

Tap a paragraph to cheer the parts you loved.

What did you think?

Sign in to cheer

How was this chapter?

Sign in to write a review as well.

Reviews

No reviews yet. Be the first.

Ch 1